اصول و ظوابط نہ جانے کہاں کھو گئے ، قانون کی پاسداری کا بھی خیال نہیں ، لاٹھی ہے تو ہانکے چلے جاؤ ۔ گولی ہے تو مار ڈالو ، خنجر ہے تو گھونپ دو ، تو پھر توپ داغنے میں بھی ڈر کیسا۔
انسانی قدریں جانے کہاں کھو گئیں مگرسنو تو حقوقِ انسانی کی بازگشت چارسُو گونج رہی ہے اور اس گونج میں انسان کی بے بسی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔
خوف پھیلتا جا رہا ہے ، اندھیرا ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے ، کچھ قربان ہورہے ہیں تو کچھ قربان کر رہے ہیں اور کچھ اس تماشے کودیکھ رہے ہیں۔تماشا دیکھنے اور کرنے والوں کا اصطبل ایک ہی ہے دونوں ہی اپنے نشے میں مست ہیں۔اور یہ مستی ابھی اور رنگ دکھائے گی جس کا رنگ بھی گہرا ہوگا۔
شیخو بلاگ میں تازہ نیوز ، ذاتی حالات زندگی ، معاشرتی پہلو اور تازہ ٹیکنیکل نیوز کے متعلق لکھا جاتا ہے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Featured Post
جاوید اقبال ۔ 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی
جاوید اقبال: 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی لاہور، پاکستان کا ایک مصروف شہر، جہاں گلیوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں ...
-
توں محنت کر تے محنت دا صلہ جانے، خدا جانے توں ڈیوا بال کے رکھ چا، ہوا جانے، خدا جانے خزاں دا خوف تاں مالی کوں بزدل کر نہیں سکدا چمن آب...
-
بہن چود اور کتے کا بچہ ۔۔۔ یہ دونوں گالیاں بڑی پیار بھری ہیں ۔۔۔ کون سا ایسا گھر ہوگا جہاں یہ پیار بھری گالیاں نہ نکالی جاتی ہوں ۔کسی گھر می...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں