خبر کچھ یوں تھی کہ اوکارہ میں حجام کے ناک کان اور ہونٹ کاٹ دئے۔آنکھیں باہر نکال دیں
نک وڈ دے ، کَن وڈ دے ، وڈ دے جو دل کیہندا
آنکھاں کڈ کے انہاں کر دے درد تو نہیں سینہدا
دل تے ماریں چاقو ایہنے ، وچ رب کیوں ریہندا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناک کاٹ دو ، کان کاٹ دو ، کاٹ دو جو آپ کا دل کہتا ہے
آنکھیں نکال کر اندھا کردو ، درد آپ نے تو نہیں جھیلنا
دل پر اتنے چاقو مارو کہ اس کے دل میں رب کیوں رہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کب بدلے گا پاکستان
شیخو بلاگ میں تازہ نیوز ، ذاتی حالات زندگی ، معاشرتی پہلو اور تازہ ٹیکنیکل نیوز کے متعلق لکھا جاتا ہے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Featured Post
جاوید اقبال ۔ 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی
جاوید اقبال: 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی لاہور، پاکستان کا ایک مصروف شہر، جہاں گلیوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں ...
-
توں محنت کر تے محنت دا صلہ جانے، خدا جانے توں ڈیوا بال کے رکھ چا، ہوا جانے، خدا جانے خزاں دا خوف تاں مالی کوں بزدل کر نہیں سکدا چمن آب...
-
بہن چود اور کتے کا بچہ ۔۔۔ یہ دونوں گالیاں بڑی پیار بھری ہیں ۔۔۔ کون سا ایسا گھر ہوگا جہاں یہ پیار بھری گالیاں نہ نکالی جاتی ہوں ۔کسی گھر می...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں