مزاح اور پھکڑ پن میں صرف ایک چھوٹی سی لکیر کا فرق ہے۔۔۔اور وہ ہے سمجھنے کی لکیر ۔۔۔ کچھ لوگ پھکڑ پن کو اصلی مزاح کا درجہ دیتے ہیں ۔۔ان کا کہنا یہ ہے کہ پھکڑپن ہو گا تو مزاح ہو گا۔۔اگر پھکڑ پن نہیں ہو گا تو وہ تحریر اپنا سنجیدہ مزاج لئے ہوئے ہوگی۔
اب یہاں ایک بات بڑی اہم ہے کہ اصل میں پھکڑ پن کا مطلب کیا ہے ؟
کچھ پھکڑ پن کو بیوقوفانہ انداز ،زبان قرار دیتے ہیں ، کچھ چَول مارنا کہتے ہیں،کچھ بدتمیز اور کچھ بدتہذیب انداز بیاں بھی قرار دیتے ہیں۔۔ایسا بدتہذیبانہ انداز جس میں دوسرے کی عزم وتکریم کا خیال نہ رکھا گیا ہو
اب سوال یہ ہے کہ میرے نزدیک پھکڑ پن کیا ہے ۔۔۔۔۔ یہ صرف ایک علاقائی لفظ ہے جو خود ساختہ بنایا ہوا ہے ۔۔۔مزاح اور پھکڑ پن کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔مزاح ایک لطیف سا عنصر ہے جو دوسروں کو مسرت کے چند لمحات مہیا کرتا ہے۔اور مزاح کو کسی اور کے ساتھ تشبیح دی ہی نہیں جا سکتی
شیخو بلاگ میں تازہ نیوز ، ذاتی حالات زندگی ، معاشرتی پہلو اور تازہ ٹیکنیکل نیوز کے متعلق لکھا جاتا ہے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Featured Post
جاوید اقبال ۔ 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی
جاوید اقبال: 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی لاہور، پاکستان کا ایک مصروف شہر، جہاں گلیوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں ...
-
جاوید اقبال: 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی لاہور، پاکستان کا ایک مصروف شہر، جہاں گلیوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں ...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں