استاد بلے کا بھی دماغ خراب ہو گیا ہے۔کتنی بار منع کیا ہے کہ استاد جی مذہب کے معاملات میں نہ بولا کرو ، نہ بولا کرو مگر استاد بلا ہے کہ مانتا ہی نہیں ۔میرا خیال ہے جب تک استاد بلے کو ہفتہ وار گالیاں نہ پڑیں اسکی طبعیت سیر ہی نہیں ہوتی ۔
بھلا کیا پڑی تھی بھرے چوک میں کہنے کہ کہ عید میلادالنبی پر چوری کی بتیوں سے چراغاں کیا جاتا ہے ۔بندہ پوچھے تو تو دو عیدوں کے علاوہ کسی اور عید کو مانتا ہی نہیں اور بھلا تجھے کیا پتہ ان کو کتنا پیار ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔۔۔۔۔۔ مگر اس کا کہنا ہے کہ میلاد ہو ، مجلس ہو ، میلاالنبی ہو سب چوری کی بجلی استمال کرتے ہیں ۔ان سب کا محاسبہ ہونا چاہئے اور ان سب سے پائی پائی وصول کرنی چاہئے۔
بہت بار سمجھایا ہے استاد بلے کو مگر وہ مانتا ہی نہیں ۔۔۔ کہتا ہے یہ سب ثواب کمانے کی بجائے گناہ کما رہے ہیں
شیخو بلاگ میں تازہ نیوز ، ذاتی حالات زندگی ، معاشرتی پہلو اور تازہ ٹیکنیکل نیوز کے متعلق لکھا جاتا ہے
جمعرات، 24 جنوری، 2013
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Featured Post
جاوید اقبال ۔ 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی
جاوید اقبال: 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی لاہور، پاکستان کا ایک مصروف شہر، جہاں گلیوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں ...
-
جاوید اقبال: 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی لاہور، پاکستان کا ایک مصروف شہر، جہاں گلیوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں ...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں