شنید ہے کہ پنجاب میں بسنت منانے ( گلے کاٹنے ) کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔اچھی بات ہے زندگی میں کچھ شغل میلہ بھی تو ہونا چاہئے ۔اب یہ کیا کہ بم دھماکوں سے ہی ہم معصوم بچے اور بڑوں کو مرتا دیکھیں ۔اب دہشت گردی میں کچھ نیا پن بھی تو آنا چاہئے ۔۔ آٹھ دس بچوں کے گلے کٹیں ، کچھ عورتیں لہولہان ہوں اور مرد اپنے ٹوٹی ٹانگوں والے بچوں کو ہسپتال لئے لئے پھریں ۔
اب بہت ہوچکا ۔۔۔ میرا خیال ہے ارباب اختیار اور پاکستانی ٹی وی میڈیا کو ایسا سوچتے ہوئے بھی شرم آنی چاہئے جو بسنت کو منانے کی ترغیب دے رہے ہیں ۔اگر کسی قاتل پتنگ کی ڈور سے کسی بچے کی گردن کٹ گئی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ۔
شیخو بلاگ میں تازہ نیوز ، ذاتی حالات زندگی ، معاشرتی پہلو اور تازہ ٹیکنیکل نیوز کے متعلق لکھا جاتا ہے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Featured Post
جاوید اقبال ۔ 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی
جاوید اقبال: 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی لاہور، پاکستان کا ایک مصروف شہر، جہاں گلیوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں ...
-
جاوید اقبال: 100 بچوں کے قاتل ایک سفاک جنسی درندے کی کہانی لاہور، پاکستان کا ایک مصروف شہر، جہاں گلیوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں ...
نامعلوم کیوں ہم اس مکروہ تہوار سے باز نہیں آتے۔
جواب دیںحذف کریں